لوگ کیا کہیں گے ۔۔ ہم روزانہ اسی بات کو سوچ کر اپنے لاکھوں خواب تباہ کر دیتے ہیں ۔۔جب تک آپ میں یہ احساس یا سوچ موجود ہے کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو لوگ کیا کہیں گے اور اگر یہ نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے تب تک ہم کامیابی حا صل نہیں کر پائیں گے۔ہمارے درمیان ایسا کون ہے جو لوگوں کی باتوں سے خوفزدہ نہ ہوا ہو؟اس دور کا سب سے واضح رجحان یہ ہے کہ جو ہم ہیں وہ نظر نہ آئیں۔ یہ معاشرے کا دباؤ ہے جو ہمیں اس بے معنی اداکاری پر مجبور کرتا ہے۔ ہم باہر سے بہت تندرست وتوانا اور ہشاش بشاش نظر آتے ہیں لیکن اندر سے ہم کھوکھلے ہو چکے ہیں اور اذیت میں رہتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ ہم نے معاشرے کے اس تعنے کو کیوں قبول کر رکھا ہے۔آپ ہرگز خوش حال نہ ہوں مگر پھر بھی آپ دیکھاوا کرتے ہیں کہ آپ بہت خوشحال ہیں اور اچھے سے زندگی گزار رہے ہیں۔ تین مہینے سے آپ نے گھر کا کرایہ ادا نہیں کیا، قرض پر آپ کےگھر کے چکر لگا رہا ہو لیکن آپ کے خیالات اور نظریات اور ایک خوشحال آدمی کے خیالات اور نظریات میں کوئی فرق نہیں۔ آپ کا سیاسی نقطۂ نظر بالکل وہی ہے جو دولت مند لوگوں کا نقطۂ نظر ہوتا ہے۔ آپ اتنے محروم آدمی ہیں کہ احساسِ محرومی سے بھی محروم ہیں۔اور ذہن پر معاشرے کا اتنا دباؤ ہے کہ آپ کچھ کر ہی نہی سکتے یہ سوچ کر کہ کہیں لوگ برا نہ مان جائیں یا لوگ کیا کہیں گے۔لوگ کیا کہیں گے؟ کچھ بھی نہیں، وہ جو کہتے ہیں انہیں کہنے دیجیے۔ ذیادہ سے ذیادہ یہی کہیں گے کہ دونوں نے شادی کی تھی جو ناکام ہو گئی۔ یا پھر کہیں گے کہ آپ نے یہ ڈگری کیوں کی اب تو کوئی کام نہیں ملے گا۔ وہ جو بولتے ہیں انہیں بولنے دو اور آپ صرف اپنے دل کی سنو۔چاہے معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا، سماجی ہو یا ذاتی، ہماری زندگیاں لوگوں کی باتوں کے خوف میں گزرتی ہیں۔ "لوگ کیا کہیں گے" کا سوال انسان کی ذاتی خواہشات پر سبقت لے جاتا ہے، یہاں تک کہ انسان اپنی خواہشات سے ہی سمجھوتہ کر لیتا ہے۔میرے ایک دوست کو گلوکاری کا شوق تھا اور اس نے گانا گانے کی پریکٹس شروع کر دی ۔ وہ بہت اچھا گانا شروع ہو گیا تھا مگر اس کے گھر والوں نے روز ایک ہی بات کہنا شروع کر دیا کہ لوگ کیا کہیں گے، رشتےدار کیا کہیں گے ، نے اس کے شوق کا گلہ دبا دیا۔۔ بس اسی ڈر سے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ہماری سماجی زندگی ایک دوسرے پر بہت زیادہ منحصر کرتی ہے، اور اس کے قائم رہنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ معاشرے کی جانب سے افراد پر عائد کردہ ذمہ داریاں نبھائی جائیں، اسی لیے کئی بار سماجی مجبوریاں ذاتی خواہشات اور ضروریات کو دبا دیتی ہیں۔ مل جل کر ساتھ رہنے کے بہت فائدے ہیں مگر گلوکاری سے کسی کا کیا نقصان ہو سکتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو اس تیز دنیا میں ڈاکٹر ،انجینئر ، وکیل بنانے کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں ۔ہم یہ نہیں سوچتے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔ان کا کیا دل کرتا ہے اور وہ کیا پڑھنا لکھنا چاہتے ہیں۔اگر بچہ اپنی مرضی سے پڑھائی کرے گا تو وہ ذیادہ کا میاب رہے گا۔ نہ کہ اسے زبردستی ڈاکٹر بنانے سے۔۔ اگر وہ اچھا ڈاکٹر نہ بن سکا اور خدا نہ خواستہ اگر اس کے ہاتھ سے کو ئی مریض مر گیا تو اس کا الزام اور گناہ کس پر جائے گا۔ ہم نے اپنے بچوں کو روبوٹ بنا دیا ہے جنہیں ہم آرڈر دیتے ہیں اور وہ کر دیتے ہیں۔"لوگ " کیا ہوتے ہیں۔ لوگ بھی ہم ہی ہوتے ہیں جب ہم دوسروں پر تنقید کرنے سے گریز نہیں کرتے تو پھر لوگ کیسے خود کو ٹھیک کر سکتےہیں۔ جب لوگ ہم پر تنقید کرتے ہیں تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں اور جو کام کر رہے ہوتے ہیں اس سے ڈرتے ہیں۔ اس معاشرے کو تب تک ٹھیک نہیں کر سکتے جب تک ہم خود کو ٹھیک نہیں کر لیتے۔
Comments